بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ کتاب "نظام کی تبدیلی: ڈونلڈ ٹرمپ کی بادشاہانہ صدارت اندر سے" (Regime Change: Inside the Imperial Presidency of Donald Trump) ایک انکشافی کام ہے جو میگی ہیبرمین (Maggie Haberman) اور جوناتھن سوان (Jonathan Swan)، نیویارک ٹائمز کے نامور صحافیوں کی 1000 سے زائد انٹرویوز اور تین سالہ روداد نگاری کا نتیجہ ہے۔ یہ کتاب جو ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز کے صرف 17 ماہ بعد شائع ہوئی اور اسی پہلے دن ایک لاکھ 50 ہزار نسخے فروخت کرنے کا غیرمعمولی ریکارڈ قائم کیا، وائٹ ہاؤس میں اقتدار کے ڈھانچے کی تبدیلی اور اس کی ایک "شہنشاہی صدارت (Imperial Presidency)" اور لامحدودیت اور مطلق العنانیت کی طرف حرکت کی چونکا دینے والی اور بےپردہ تصویر پیش کرتی ہے۔
حصۂ ہشتم:
جے ڈی وینس نے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ کوئی بھی فوجی بصیرت واقعی اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکتی کہ جب نظام حکومت کی بقا خطرے میں ہو تو ایران جوابی کارروائی میں کیا کیا کر گذرے گا۔ ایک جنگ آسانی سے غیرمتوقعہ راستوں میں بھٹک سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، وینس نے سوچا کہ اس کے بعد ایک پرامن ایران کی تعمیر کے امکانات بہت کم نظر آتے ہیں۔
ان سب چیزوں سے بالاتر، شاید سب سے بڑا خطرہ یہ تھا: ایران کو آبنائے ہرمز کے بارے میں برتری حاصل تھی۔ اگر یہ تنگ آبی راستہ ـ جو بڑی مقدار میں تیل اور قدرتی گیس دنیا کو فراہم کرتا ہے ـ بند ہو جائے تو امریکہ میں اس کے اندرونی نتائج بہت شدید ہوں گے، اور ان نتائج کا آغاز پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے ہوگا۔
ٹکر کارلسن (Tucker Carlson)، ایک مبصر جو دائیں بازو کے دھارے میں ـ فوجی مداخلت کے ـ ایک ممتاز ناقد کے طور پر ابھرے تھے، پچھلے سال کے دوران کئی بار ٹرمپ کو خبردار کرنے کے لئے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس (Oval Office) آئے تھے، کہ ایران کے ساتھ جنگ اس کی صدارت کو تباہ کر دے گی۔
فروری کے آخری دنوں میں، امریکیوں اور اسرائیلیوں نے نئی معلومات کے بارے میں بات کی جس نے ان کے ٹائم ٹیبل کو نمایاں طور پر تیز کر دیا۔ آیت اللہ [خامنہ ای] کا دن کی روشنی میں ـ فضائی حملے کے لئے مکمل طور پر تیار، ـ ایران کے دیگر سینئر عہدیداروں کے ساتھ زمین پر ملاقات کا پروگرام تھا۔ یہ ایران کی قیادت کے مرکز کو نشانہ بنانے کا ایک عارضی موقع تھا، ایک ایسا ہدف جو شاید دوبارہ خود کو نہ دکھائے۔
سفارت کاری نے امریکہ کو اپنے فوجی اثاثے مشرق وسطیٰ منتقل کرنے کے لئے مزید وقت دیا۔
اس کے متعدد مشیروں نے کہا کہ صدر نے عملی طور پر چند ہفتے پہلے اپنا فیصلہ کر لیا تھا۔ لیکن اس نے ابھی تک اس کا عین وقت طے نہیں کیا تھا۔ اب، نیتن یاہو نے اس سے جلد از جلد کارروائی کرنے کو کہا تھا۔
اسی ہفتے، [ٹرمپ کے سفارتی دلال] کشنر اور وٹکاف نے ایرانی عہدیداروں کے ساتھ آخری مذاکرات کے بعد جنیوا سے رابطہ کیا۔ انہوں نے عمان اور سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے تین ادوار کے دوران، ایران کی طرف سے معاہدے کی طرف رجحان کا تجربہ کیا تھا۔ ایک موقع پر، انہوں نے ایرانیوں کو ان کے پورے پروگرام کے لئے مفت جوہری ایندھن کی پیشکش کی - یہ ایک آزمائش تھی کہ آیا تہران کا افزودگی پر اصرار واقعی سویلین توانائی کے لئے ہے یا بم بنانے کی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لئے۔ ایرانیوں نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا اور اسے اپنی عزت کی توہین قرار دیا۔ (5)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
5۔ یہ دو افراد در حقیقت امریکہ اور وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کے مندوبین ہیں وہ ایٹمی ٹیکنالوجی کے الفبا سے ناواقف ہیں، دونوں صرف بروکرز ہیں اور دونوں پیشے کے اعتبار سے پراپرٹی ڈیلر اور سفارتی اور جوہری علوم سے بالکل خالی ہیں، ان کو صرف کھیل خراب کرنے کے لئے بھیجا جاتا ہے اور جب یہ دو کسی ملک کے ساتھ قدم بڑھائیں تو اس ملک کو جاننا چاہئے کہ ٹرمپ اس ملک کو نقصان پہنچآنے کے لئے ایک موقع کی تلاش میں ہے کیونکہ یہ دو افراد ٹرمپ کی فیصلے کی صلاحیت میں ہیراپھیری کرکے اس کو صرف اور صرف اسرائیل کے مفاد میں اقدام کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیشکش: سید محمد حسین راجی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ